آن[1]

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ادا، چھب، کسی عضو کی معشوقانہ دلکش حرکت، عشوہ، غمزہ۔  دو دو چھریاں لیے پھرتا ہے حسینوں کا شباب شان ہوتی ہے جدا، آن جدا ہوتی ہے      ( ١٩٢٨ء، سرتاج سخن، جلیل، ٢٠ ) ٢ - دلکشی، جاذبیت۔  سانولا رنگ ہو کہ گورا ہو آن ہو جس میں خوبرو ہے وہی      ( ١٨٣٦ء، ریاض الجر، ٢٤٩ ) ٣ - طریقہ، انداز، طرز، ڈھب، طور۔ "برگزیدگانِ خدا کی ہرآن سے شانِ الٰہی جلوہ گر ہوتی ہے"      ( ١٩٠٧ء، تذکرۃ المصطفٰی، ١٥ ) ٤ - طبیعت، مزاج، عادت، خصلت "اچھا میں تم کو تمھاری ماں سے ملتی جلتی ایک شکل دکھاؤں، وہ تمھاری بہن صفیہ ہے جس نے اپنی ماں کی کوئ آن نہیں چھوڑی"۔      ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٤٢:١ ) ٥ - بناوٹ، تصنع۔  ایک فقط ہے سادگی تس پہ بلائے جاں ہے تو عشق کرشمہ کچھ نہیں آن نہیں، ادا نہیں      ( ١٨١٠ء، کلیات، میر، ٢٣٢ ) ٦ - بانکپن، تمکنت، وقار۔ "اس وقت بھی ان میں ایک آن پائی جاتی تھی"۔      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٨٥ ) ٧ - سج، دھج  صورت وہی، حشم بھی وہی، شان بھی وہی جامہ وہی، قبا بھی وہی، آن بھی وہی      ( ١٩٤٩ء، مراثی نسیم، ١٥٧:٣ ) ٨ - قسم،عہد۔  کیا تمھیں برات میں جانے کی آن ہے"۔      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ١٤٠:١ ) ٩ - رواج، رسم، ریت۔ "ہمارے ہاں تو بڑوں سے آن چلی آتی ہے کہ سیدوں کے سوا کسی کو بیٹی نہ دیں اور نہ کسی کی بیٹی لیں"۔      ( ١٨٩٥ء، حیات صالحہ، ٦١ ) ١٠ - وعدہ۔  قول و عمل ہوں ایک یہ مردوں کی شان ہے حق پر نثار ہوں گے ہماری یہ آن ہے      ( ١٩١٢ء، مرثیہ، شمیم، ١١ ) ١١ - خودداری۔  مفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پر دیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پر      ( ١٨٣٠ء، کلیات، نظیر، ٣١٦:١ ) ١٢ - پاس وضع، وضعداری  جس نے صورت تک عدالت کی کبھی دیکھی نہ تھی ہاتھ سے جس نے بڑوں آن اب تک دی نہ تھی      ( ١٨٩٢ء، دیوان، حالی، ١٨٠ ) ١٣ - شرم و حیا۔(پلیٹس) ١٤ - روک ٹوک، ممانعت۔ "ان کے یہاں سبز چوڑیوں کی آن ہے"      ( ١٨٩١ء، امیر اللغات، ١٧٨:١ ) ١٥ - مرتبہ، شان و شوکت۔  تمھاری عزتیں تھیں، اوج تھا، رتبہ تھا، شانیں تھیں تمھاری بات تھی، احکام تھے، کہنا تھا آنیں تھیں١٩٢١ء، کلیات، اکبر، ٣١٦:١ ١٦ - ارادہ، مرضی، خواہش۔  ہم گئے دنیا سے وہ آتے رہے اس میں کیا ہے اپنی اپنی آن ہے ١٧ - ضد، ہٹ(نوراللغات، 141:1) ١ - آنا مصدر سے حاصل مصدر، 'آ' کی جگہ مستعمل تھا، فعل معطوفہ اور افعال مرکبہ میں مستعمل (آن پہنچنا، آن گرنا) وغیرہ۔ "دل رہا شہرِ دیدار کا نگہبان، اغیار کوں واں نہیں دیتا آن"۔      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ملا وجہی، ٦٧ )

اشتقاق

فارسی زبان میں 'آن' اور سنسکرت میں 'اَیَن' استعمال ہوتا ہے اور اردو میں ١٥٦٤ء میں اردو میں حسن شوقی نے استعمال کیا اور قدیم 'آں' استعمال ہوتا تھا۔

مثالیں

٣ - طریقہ، انداز، طرز، ڈھب، طور۔ "برگزیدگانِ خدا کی ہرآن سے شانِ الٰہی جلوہ گر ہوتی ہے"      ( ١٩٠٧ء، تذکرۃ المصطفٰی، ١٥ ) ٤ - طبیعت، مزاج، عادت، خصلت "اچھا میں تم کو تمھاری ماں سے ملتی جلتی ایک شکل دکھاؤں، وہ تمھاری بہن صفیہ ہے جس نے اپنی ماں کی کوئ آن نہیں چھوڑی"۔      ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٤٢:١ ) ٦ - بانکپن، تمکنت، وقار۔ "اس وقت بھی ان میں ایک آن پائی جاتی تھی"۔      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٨٥ ) ٨ - قسم،عہد۔  کیا تمھیں برات میں جانے کی آن ہے"۔      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ١٤٠:١ ) ٩ - رواج، رسم، ریت۔ "ہمارے ہاں تو بڑوں سے آن چلی آتی ہے کہ سیدوں کے سوا کسی کو بیٹی نہ دیں اور نہ کسی کی بیٹی لیں"۔      ( ١٨٩٥ء، حیات صالحہ، ٦١ ) ١٤ - روک ٹوک، ممانعت۔ "ان کے یہاں سبز چوڑیوں کی آن ہے"      ( ١٨٩١ء، امیر اللغات، ١٧٨:١ ) ١ - آنا مصدر سے حاصل مصدر، 'آ' کی جگہ مستعمل تھا، فعل معطوفہ اور افعال مرکبہ میں مستعمل (آن پہنچنا، آن گرنا) وغیرہ۔ "دل رہا شہرِ دیدار کا نگہبان، اغیار کوں واں نہیں دیتا آن"۔      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ملا وجہی، ٦٧ )

جنس: مؤنث